جمرات کی کنکریوں کا معمہ
From the Blog draslamfaheem*بچپن میں جب حاجی حج سے واپس آتے تو کھجوروں اور زم زم کے شوق میں ہم بھی بڑوں کی طرح ان سے ملنے چلے چلتے،حج کے تذکرے ہوتے، ہم نے اتنا سفر پیدل کیا،،ایسے طواف کیا ، ایسے شیطانوں کو کنکریاں ماریں تو دل میں ایک نقشہ سا بن جاتا کہ شاید وہاں کوئی شیطان کھڑے ہوتے ہوں گے جنہیں یہ حاجی صآحبان کنکریاں مار کے آتے ہیں،پھر حاجی یہ بھی بتاتے کہ جن لوگوں کا حج اللہ پاک قبول کر لیتے ہیں ناں ان کی کنکریاں وہاں سے راتوں رات غائب ہو جاتی ہیں،اور جن کا حج قبول نہیں ہو تا ان کی ماری گئی کنکریاں ایسے ہی پڑی رہ جاتی ہیں،ہم بھی بڑوں کی طرح سبحان اللہ سبحان اللہ کہے جاتے۔جن کا حج قبول نہیں ہوتا ان کیلئے دل سے افسوس ہوتا ہم حاجی صاحب کی لائی کھجوریں اور آبِ زمزم نوشِ جاں کرتے اور گھروں کو لوٹ آتے۔* *وقت گزرتا رہا لیکن شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا سوال تشنہ جواب ہی رہا، لیکن اس حوالے سے "العربیہ ٹی وpakistanblogs.blogspot.comRead Full Post

0 comments :
Post a Comment