نظم ۔۔۔ میں اور تو ۔۔۔ احمد فرازؔ
From the Blog ranaii-e-khayal روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی کوئی گھٹتا ہوا بڑھتا ہوا بے کل سایہ ایک دیوار سے کہتا کہ میرے ساتھ چلو اور زنجیرِ رفاقت سے گریزاں دیوار اپنے پندار کے نشے میں سدا ایستادہ خواہشِ ہمدمِ دیرینہ پہ ہنس دیتی تھی کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی کون دیوار ہمیشہ مگر ایستادہ رہی وقت دیوار کا ساتھی ہے نہ سائے کا رفیق اور اب سنگ و گل و خشت کے ملبے کے تلے اسی دیوار کا پندار ہے ریزہ ریزہ دھوپ نکلی ہے مگر جانے کہاں ہے سایہ احمد فرازؔ pakistanblogs.blogspot.comRead Full Post

0 comments :
Post a Comment