نقطہء تحریر
From the Blog mahmoodulhaq:: زندگی کے پل جسم سے تو جدا رہتے ہیں مگر کبھی خود تو کبھی جواز پیدا کر کے جسم ہی کو احساس سے تختہ مشق بناتے ہیں۔ :: زندگی کوپانے کے احساس لمس دلاتی ہر شے دلپزیر ہوتی ہے۔ :: پانے کی خواہش ایک لمبے پل کی محتاج ہے مگر پا کر خوشی کی چند پل سے زیادہ نہیں۔ :: کھونے کا خوف چند پل کا ہے مگر کھونے کا درد ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے۔ :: جسم کی ضرورتیں پل پل بدلتی ہی کبھی پسند و نا پسند میں تو کبھی خوشی و غم کے کھونے اورپانے میں۔ :: پھول احساس سے مزین ہوتے ہیں بھنوروں کو بلاتے ہیں صرف لمس ہی نہیں خوشبو بھرا رس بھی دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بھنورے اور پھول کی قسمت میں فنا لکھا ہے ،لہر اور کنارے کی طرح صدیوں تک آبادرہنا نہیں۔ :: محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے ۔جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے ،تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں۔ :: محبت کی داستان سچی ہو۔تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد pakistanblogs.blogspot.comRead Full Post

0 comments :
Post a Comment