چاچاجی کھاآئے او؟؟؟
From the Blog urduonline سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء طالبعلمی سے میری مراد کالج کے وہ برس ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔ ہائے ہائے وہ نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔ جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے انکو ایک تانگے والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا نظر آتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے باpakistanblogs.blogspot.comRead Full Post

0 comments :
Post a Comment