نشانیاں
From the Blog mahmoodulhaq گرمی سے ستائے لوگ نہر میں الٹی قلابازیاں لگاتے کود رہے تھے۔ چند ایک پانی کو گندہ جان کر صرف پاؤں کو ٹھنڈک پہنچانے تک ہی استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ وہاں گاڑیوں سے گزرنے والے بے اعتنائی سےکچھ بھی سوچنے کی مشقت سے لا پرواہی برتتے ہوئے افطاری میں مدعو کئے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے جیب میں ڈالی لسٹ پر بار بار اچٹکتی نگاہ ڈالتے کہ کہیں گھر پہنچنے پر حافظہ کی کمزوری کا طعنہ سننے میں نہ آجائے۔کسی کو جانے کی جلدی تھی تو کسی کو واپس آنے کی۔دھوپ 43, 45 ڈگری سے جسم کی حرارت بڑھا رہی تھی تو دماغ ڈبل سپیڈ سے خیالات کو ہوا کے گھوڑے پر بٹھا رہا تھا۔غرض بندہ بشر کچھ سن رہا تھا کچھ سنا رہا تھا۔جو سبق ابھی یاد کیا اسے بھلا رہا تھا۔ رات کا چین کھو رہا تھا تو دن کا سکون بھی ہاتھ سے جا رہا تھا۔ نظر اُٹھا کر جب درختوں کو میں نے دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے۔ ٹہنی سے ٹہنی ملائے پتے سے پتہ ٹکرائے تونشہ میںpakistanblogs.blogspot.comRead Full Post

0 comments :
Post a Comment